محسن خان کی اللہ میاں کا کارخانہ
کتاب پر تبصرہ
محسن خان کا ناول‘اللہ میاں کا کارخانہ’، جسے 2023 میں بینک آف بروڈا راشٹریہ بھاشا سمان سے نوازا گیا تھا، بچپن کی بےکل کیفیت، حیرانی اور شرارتوں کو بڑے ہی واضح انداز میں پیش کرتا ہیں۔ لیکن اِس عام زندگی کے تہوں کے درمیان ایک ایسی تباہی چھپی ہے جو اچانک سے دستک دیتی ہے اور ایک محیط درد سے ملاقات کرواتی ہے۔
یہ کہانی جبران، ایک کمسن لڑکے، کی زبان میں سنائی گئی ہے اور اُس کی روزمرہ کی زندگی کے قصّوں سے شروع ہوتی ہے – پتنگ اُڑانا، فرصت کے کھیل، اور ایسے سوال، جنہیں اُس نے ابھی تک ناگفتہ چھوڑنے کا سبق نہیں سیکھا، جو بتکلف ذہن میں گھل تو جاتے ہیں، مگر پِھر دل میں بے جنبش پتھر بن کے دھنسنے لگتے ہیں۔ ناول میں بچپن کا وہ نظریہ ہے جو مُعاشرے کے دستور اور حدود کی قید سے پرے ہوتا ہے۔
راوی کی روایت میں شدید جذباتی رنگ نہیں ہے– شاید اسی لئے کیونکہ جبران ابھی امکانات کی دنیا سے روبرو نہیں ہے: کیا ہو سکتا تھا اور کیا ہونا چاہیے تھا۔ جبران کو یہ نہیں معلوم کہ سطح کے نیچے غربت اور تعصّب کی بے رحم قوّتیں اُس کی زندگی کو ایسے تنگ دائروں میں قید کر رہی ہیں جن پر اُس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ راوی کی کم فہمی قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ قاری وہ دیکھ پاتا ہے جو راوی خود نہیں دیکھ سکتا، اور یہ کہانی کے تہوں میں موجود کسک کو اور چبھن دار بنا دیتا ہے۔
جبکہ قاری جبران کی دنیا میں بےخبر اُترتا ہیں, وہ جانتا ہے کہ ایک معاشی طور پر کمزور مسلم خاندان کس بے بسی کا شکار ہو سکتا ہے — وہ نیچے بہ رہی تناؤ کی لہروں کی ہلکی سرگوشیوں کو سن سکتا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ دباؤ پڑنے پر کیا کچھ ٹوٹ سکتا ہے۔ کہانی پہلے جبران کی زندگی کے دلچسپ اور مذاقیہ قصّوں سے اپنا رنگ جماتی ہے — اسکول کے آنگن کی باتیں، دوستانہ شرارتیں، اور چھوٹی چھوٹی فکریں۔ مگر دھیرے دھیرے یہ مناظر بدلتے ہیں اور جبران کی زندگی کے سائے لمبے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ نظر آتی ہے، تب کسی بھی ماضی معمولات کی جھلک بھی واپس حاصل کر پانا ناممکن ہو جاتا ہے۔
ہر زخم سکون چھین لیتا ہے، اور بدلے میں ایک بوجھل سی چادر اوڑھ کر جبران کی زندگی میں شامل ہو جاتا ہے۔ غم کی وسعت اور عام صورت تسلی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی اور نہ ہی کوئی راہِ راحت۔ نہ ہی کوئی آواز اُٹھتی ہے جو اخلاقی غصّے کو نمایاں کرتی ہو اور رنج کی گرفت میں ہوش و حواس انسان کو آشفتہ حالت میں لا کر ٹھہرا دیتی ہے۔ اسی اخلاقی نمائش کی غیر حاضری اُن لمحوں کو، اس پنپتی ہوئی اَن کہی میں، اور نمایاں بنا دیتی ہے۔ بے انجام جملے کہانی کو معلّق چھوڑ دیتے ہیں، جو شاید حقیقتِ حیات کے سب سے قریب ہے۔ ادھورے الفاظ قاری کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
مگر اس ناول میں ایک دائمی ہنسی بھی موجود ہے، آخر کار جبران ایک چھوٹا بچہ ہی تو ہے۔ ایک جگہ جبران شکایت کرتا ہے کہ گیس ہمیشہ سب سے نامعقول لمحوں میں کیوں نکلتی ہے، اور دوسری جگہ وہ یہ سبق سیکھتا ہے کہ صرف پتنگ کے وعدے پر بھروسا کر کے پہلے سے ڈور کا انتظام اور اُڑان کا منصوبہ نہیں بنانا چاہیے — کیونکہ اس کا دوست اسے چکما دے دیتا ہے۔
ناول میں ہندوستانی معاشرے کی دراروں — جیسے پیٹرنلزم ،مذہب اور اندھ وشواس کی فریبی پناہ ، اور اقلیتوں کو مسلسل حاشیے پر دھکیلنا — کو بے نقاب کیا ہے، جن کے درمیان متعدد گھاؤ سدا رِستے رہتے ہیں۔ یہ دراریں ایک انتہائی نازک توازن سے سیل دی جاتی ہیں جو ایک ہی لمحے میں پھوٹ کر لوگوں کی زندگیاں تباہی کی موج میں بہا سکتی ہیں۔ لیکن، ہندوستان میں ایک مسلّم سماجی معاہدہ ہے: زیادہ سوال مت پوچھو اور نہ ہی تضاد اور خلاؤں کو نمایاں کرو۔ زخموں کو پکنے دیا جاتا ہے، جو اندر ہی اندر عوام کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اور ملک کے ڈھانچے کو اندر سے گرا دیتے ہیں۔ ایمان بے داغ نظر آنا چاہیے۔ خاندان ہمیشہ درست اور باعزّت۔ ناکام اداروں کا احترام کرنا ضروری ہے۔ وراثتی عقیدوں کو بغیر جانچ پرکھ کے قبول کرنا ہی تہذیب ہے۔ مذہب کو تنقید سے محفوظ رکھنا چاہیے، چاہے وہ خوف، ظلم یا پھر دست برداری کا ذریعہ ہی کیوں نہ بن جائے۔
موجودہ سماجی حالات کی بَرقَراری اُن کہانیوں کی محتاج ہوتی ہے جو وہ اپنے بارے میں بتاتا ہے تاکہ وہ اپنی ایریشنیلِٹیز کو نظروں سے دُور رکھ سکے۔ اِن بے دلیل افسَانوں کو زندہ اور دُرست رکھنا ضروری ہے، پھر چاہے اُس کے تَلے لوگ پِس کیوں نہ رہے ہوں۔ لیکن,حقیقت پر پردہ ڈال کر صرف تصویر بچانے کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور یہ قیمت ادا کرتے ہیں جبران جیسے بچے، مائیں جو بغیر کسی شکایت کے درد سہنے پر مجبور ہوتی ہیں، اور وہ گھر جو کسی بدنامی سے نہیں، بلکہ بے توجہی کے بوجھ تلے دھیرے دھیرے گر جاتے ہیں۔
اللہ میاں کا کارخانہ میں بچپن کی اُس شکل سازی کا وجود ہے جو کبھی مِٹ نہیں سکتی۔ مصنّف کا حکمت آمیز جملہ “بچپن کی باتیں ساری زندگی انسان کے ذہن میں پاگَر ہوتی رہتی ہیں” اس بات کو انتہائی صاف گوئی سے درشاتا ہے۔ ہر نظر انداز سوال، ہر غیر سنجیدگی سے سنبھالے ہوئے جذبات کئی ناخواستہ سبق جسم میں دفن کر دیتے ہیں جو انسان کو ہر مشکل پڑاؤ پر محدود کر دیتے ہیں۔ یہ ناگزیر سبق انسان کے امکانات اور تصور کو دھندلا دیتے ہیں۔ بچپن، زیادہ تر حالات میں، بَڑوں کی خود فریبی کا سب سے پہلا سامنا ہوتا ہے۔ اور اس منظر کے سامنے بھی بچوں سے اُمید ہوتی ہے کہ وہ فرمانبردار رہیں اور بڑوں کے اختیار کا احترام کریں۔ تجسّس کو بغاوت سمجھا جاتا ہے، خاص کر جب وہ وراثتی عقیدوں یا سماجی ڈھانچوں کو چُنوتی دیتےہیں۔
ناول مذہب پر بھی ایک تبصرہ کرتا ہے۔ جدید معاشرے میں اگر دین کا کوئی کام ہے، اگر اس کا کوئی واقعی انوکھا کردار اب بھی باقی ہے، تو وہ یہ ہے کہ وہ غم کی کوئی تفسیر دے اور اس تفسیر کے ذریعے انسان کو غم برداشت کرنے کا حوصلہ دے — وہ الفاظ اور روایات فراہم کرنا جن کے ذریعے دُکھ بانٹے جا سکیں، اور اگر ختم نہ بھی ہوں تو کم از کم گزارا کرنا سِکھا پائے۔ لیکن، ناول یہ دکھاتا ہے کہ دین کس قدر ایسی تسلّی دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ مذہب جبران کی روز مرّہ زندگی میں بس ایک عقیدہ نہیں، بلکہ ایک گھلی ہوئی موجودگی ہے — جو اُسے تسلّی بھی دیتا ہے اور تنبیہ بھی کرتا ہے۔ ناول زیادہ تر احساس اور رویّوں کو اسی پہلو سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبران پوچھتا ہے: “اگر اللہ نے مرغیاں بنائی ہیں تو بِلی کیوں؟” یہ سوال بچپن کی سادگی سے اُبھرتے ہیں — دینی یا علمی دائروں کے پرے — اور اسی سادگی میں ایمان کی بنیاد ہِلا دیتے ہیں۔
جبران اور اُس کی بہن نُصرت اپنی مرغیوں اور چوزوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، اُنہیں بلیّوں اور پرندوں سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دن انہیں ایک نیلی سفید تتلی دیکھتی ہیں۔ جبران اُسے پکڑ لیتا ہے، لیکن نُصرت کے کہنے پر چھوڑ دیتا ہے۔ اب اُس کے پر زخمی ہو چکے ہوتے ہیں، اور تتلی مشکل سے اُڑ پاتی ہے۔ مرغی فوراً اُس پر جھپٹا مارتی ہے اور چوزے بھی دعوت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جبران کو اپنی انگلیوں پر تتلی کے نیلی سفید پروں کی گرمی بعد تک محسوس ہوتی رہتی ہے۔ یہ منظر ناول کے ایک اہم موضوع کو سامنے لاتا ہیں — جب اللہ نے خوبصورت مخلوقات بنائی ہے تو اس کے لیے خطرے کیوں پیدا کیے؟ یہ سوال کہانی میں ہر موڑ پر آتا ہے۔ جبران کی زندگی میں شامل بڑے اس سوال کا قناعت بخش جواب نہیں دے پاتے۔ بڑوں کے جواب کبھی تنبیہ ہوتے ہیں، کبھی ٹالنے والے، اور کبھی دین کا علم حاصل کرنے کی نصیحت۔ تتلی کا مرنا، جبران کا سوال، اور بڑوں کے جواب ایک ہی سلسلے کے پہلو ہیں: بے معنی درد کے مبہم معانی سمجھنے کی بے چین کوششیں۔
جب وہ اپنے سوالوں کو خود خدا کے پاس لے کر جاتا ہے، تو وہ بھی اُس سے وہی کھوکھلے جواب دیتا ہے جو بڑے پہلے ہی اُسے دے چکے ہوتے ہیں۔ جبران پیٹھ موڑ لیتا ہے — نہ غصّے میں اور نہ بغاوت میں، بلکہ ایک مایوسی کے ساتھ — اُسے سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا بھی ایک تنگ دائرے میں قید ہیں۔ اللہ میاں کا کارخانہ ایمان کے بحران کو کسی مقامی واقعے کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ جبران کا یقین دھیرے دھیرے ٹوٹنے لگتا ہے، یہاں تک کہ خدا بھی التجا سننے کے باوجود بے حس لگنے لگتا ہے۔
زندگی میں ہمیشہ ایک کَشْمَکَش رہتی ہے: جو انسان چاہتا ہے اور جو حقیقت دنیا ممکن بناتی ہے۔ اس ناول میں پتنگ کا استعارہ بار بار اُبھرتا ہے۔ پتنگ کی فطرت میں ہے کہ وہ آزاد اُڑتی رہے، مگر اس کا رُخ کئی چیزوں کے اختیار میں ہوتا ہے: ہوا، ڈور، اور دوسروں کی چالیں۔ ہر مخلوق — چاہے وہ انسان ہو یا نیلی سفید تتلیاں — کسی اور کی قسمت سے اُلجھ جاتی ہے، اور ہر کوئی اپنا کردار ادا کرتا ہے، بغیر یہ سمجھے کہ اس کا اثر کتنا گہرا ہو سکتا ہے۔ عام سے ہاتھ بھی کچھ دیر کے لیے خدا نما اختیار پا لیتے ہیں اور کسی اور کی زندگی کا رُخ طے کر دیتے ہیں۔
جبران اپنی زندگی کو دوبارہ جوڑنے کی اور اپنے زخموں کو بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے، لیکن جیسے پانی مٹی کو بہا لے جاتا ہے، یہ اُس کے بس سے باہر ہے۔ یہ اللہ میاں کا کارخانہ ہے: جہاں انسان کی خوشیاں، غم اور آرزوئیں ثقافت، طبقاتی نظام اور مذہب کی مشینری سے گزرتی ہیں، اور آخر میں جو اس کے پاس بچتا ہے وہ اس کے اصل ارادوں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔
آخر میں، جبران کی کہانی نہ بغاوت کی ہے اور نہ ہی فتح کی۔ جبران قاری کو انجام کے درمیان چھوڑ دیتا ہے — ایک بھاری اور الجھی ہوئی خاموشی کے ساتھ ۔ قاری کے ذہن میں بے جواب سوالوں کی گونج رہ جاتی ہے — کچھ تتلی کے پَرَوں کی طرح ہلکے، اور کچھ کَتبے کی طرح سنگین اور نہ ہلنے والے۔
मोहसिन ख़ान का नावल ‘अल्लाह मियाँ का कारख़ाना’, जिसे 2023 में बैंक ऑफ़ बड़ौदा राष्ट्रीय भाषा सम्मान से नवाज़ा गया था, बचपन की बेकल कैफ़ियत, हैरानी और शरारतों को बड़े ही वाज़ेह अन्दाज़ में पेश करता है। लेकिन इस आम ज़िन्दगी के तहों के दरम्यान एक ऐसी तबाही छुपी है जो अचानक से दस्तक देती है और एक मुहीत दर्द से मुलाक़ात करवाती है।
ये कहानी जिब्रान, एक कमसिन लड़के, की ज़बान में सुनाई गई है और उस की रोज़मर्रा की ज़िन्दगी के क़िस्सों से शुरू होती है – पतंग उड़ाना, फ़ुर्सत के खेल, और ऐसे सवाल, जिन्हें उस ने अभी तक नागुफ़्ता छोड़ने का सबक़ नहीं सीखा, जो बेतकल्लुफ़ ज़हन में घुल तो जाते हैं, मगर फिर दिल में बेजुम्बिश पत्थर बन के धंसने लगते हैं। नावल में बचपन का वो नज़रिया है जो मुआशरे के दस्तूर और हुदूद की क़ैद से परे होता है।
रावी की रवायत में शदीद जज़्बाती रंग नहीं है– शायद इसी लिए क्योंकि जिब्रान अभी इमकानात की दुनिया से रू-ब-रू नहीं है: क्या हो सकता था और क्या होना चाहिए था। जिब्रान को ये नहीं मालूम कि सतह के नीचे ग़ुर्बत और त-अस्सुब की बे-रहम क़ुव्वतें उस की ज़िन्दगी को ऐसे तंग दायरों में क़ैद कर रही हैं जिन पर उस का कोई इख़्तियार नहीं है। रावी की कम-फ़हमी क़ारी को अपनी तरफ़ खींचती है। क़ारी वो देख पाता है जो रावी ख़ुद नहीं देख सकता, और ये कहानी के तहों में मौजूद कसक को और चुभनदार बना देता है।
जबकि क़ारी जिब्रान की दुनिया में बेख़बर उतरता है, वो जानता है कि एक मआशी तौर पर कमज़ोर मुस्लिम ख़ानदान किस बेबसी का शिकार हो सकता है — वह नीचे बह रही तनाव की लहरों की हल्की सरगोशियों को सुन सकता है, और वह जानता है कि दबाव पड़ने पर क्या कुछ टूट सकता है। कहानी पहले जिब्रान की ज़िन्दगी के दिलचस्प और मज़ाक़िया क़िस्सों से अपना रंग जमाती है — स्कूल के आंगन की बातें, दोस्ताना शरारतें, और छोटी छोटी फ़िक्रें। मगर धीरे-धीरे ये मनाज़िर बदलते हैं और जिब्रान की ज़िन्दगी के साये लम्बे होते चले जाते हैं। ये तब्दीली आहिस्ता-आहिस्ता नज़र आती है, तब किसी भी माज़ी मामूलात की झलक भी वापस हासिल कर पाना नामुमकिन हो जाता है।
हर ज़ख़्म सुकून छीन लेता है, और बदले में एक बोझल सी चादर ओढ़ कर जिब्रान की ज़िन्दगी में शामिल हो जाता है। ग़म की वुस-अत और आम सूरत तसल्ली की कोई गुंजाइश नहीं छोड़ती और न ही कोई राह-ए-राहत। न ही कोई आवाज़ उठती है जो इख़लाक़ी ग़ुस्से को नुमायाँ करती हो और रंज की गिरफ़्त में होश-ओ-हवास इंसान को आशुफ़्ता हालत में ला कर ठहरा देती है। इसी इख़लाक़ी नुमाइश की ग़ैर-हाज़िरी उन लम्हों को, इस पनपती हुई अनकही में, और नुमायाँ बना देती है। बेअंजाम जुमले कहानी को मुअल्लिक़ छोड़ देते हैं, जो शायद हक़ीक़त-ए-हयात के सबसे क़रीब है। अधूरे अलफ़ाज़ क़ारी के साथ रह जाते हैं।
मगर इस नावल में एक दाइमी हँसी भी मौजूद है, आख़िर-कार जिब्रान एक छोटा बच्चा ही तो है। एक जगह जिब्रान शिकायत करता है कि गैस हमेशा सब से नामाक़ूल लम्हों में क्यों निकलती है, और दूसरी जगह वो ये सबक़ सीखता है कि सिर्फ़ पतंग के वादे पर भरोसा कर के पहले से डोर का इन्तिज़ाम और उड़ान का मन्सूबा नहीं बनाना चाहिए — क्योंकि दोस्त उसे चकमा दे देता है।
नावल में हिंदुस्तानी मुआशरे की दरारों — जैसे पेटर्नलिज़्म, मज़हब और अंधविश्वास की फ़रेबी पनाह, और अक़ल्लीयतों को मुसलसल हाशिये पर धकेलना — को बेनक़ाब किया है, जिन के दरम्यान मुत’अद्दिद घाव सदा रिसते रहते हैं। ये दरारें एक इन्तिहाई नाज़ुक तवाज़ुन से सील दी जाती हैं जो एक ही लम्हे में फूट कर लोगों की ज़िन्दगियाँ तबाही की मौज में बहा सकती हैं। लेकिन, हिंदुस्तान में एक मुसल्लम समाजी मु’आहिदा है: ज़्यादा सवाल मत पूछो और न ही तज़ाद और ख़लाओं को नुमायाँ करो। ज़ख़्मों को पकने दिया जाता है, जो अन्दर ही अन्दर अवाम को खोखला कर देते हैं और मुल्क के ढाँचे को अन्दर से गिरा देते हैं। ईमान बेदाग़ नज़र आना चाहिए। ख़ानदान हमेशा दुरुस्त और बा-इज़्ज़त। नाकाम इदारों का एहतराम करना ज़रूरी है। विरासती अक़ीदों को बग़ैर जाँच-परख के क़बूल करना ही तहज़ीब है। मज़हब को तनक़ीद से महफ़ूज़ रखना चाहिए, चाहे वो ख़ौफ़, ज़ुल्म या फिर दस्त-बरदारी का ज़रिया ही क्यों न बन जाए।
मौजूदा समाजी हालात की बरक़रारी उन कहानियों की मोहताज होती है जो समाज अपने बारे में बताता है ताकि वो अपनी इर्रेशनलिट़ीज़ को नज़रों से दूर रख सके। इन बेदलील अफ़सानों को ज़िन्दा और दुरुस्त रखना ज़रूरी है, फिर चाहे उस के तले लोग पिस क्यों न रहे हों। लेकिन, हक़ीक़त पर पर्दा डाल कर सिर्फ़ तस्वीर बचाने की भी एक क़ीमत होती है। और ये क़ीमत अदा करते हैं जिब्रान जैसे बच्चे, माएँ जो बग़ैर किसी शिकायत के दर्द सहने पर मजबूर होती हैं, और वो घर जो किसी बदनामी से नहीं, बल्कि बे-तवज्जुही के बोझ तले धीरे-धीरे गिर जाते हैं।
अल्लाह मियाँ का कारख़ाना में बचपन की उस शक्ल-साज़ी का वजूद है जो कभी मिट नहीं सकती। मुसन्निफ़ का हिकमत-आमेज़ जुमला “बचपन की बातें सारी ज़िन्दगी इंसान के ज़हन में पागर होती रहती हैं” इस बात को इन्तिहाई साफ़-गोई से दर्शाता है। हर नज़र-अंदाज़ सवाल, हर ग़ैर-संज़ीदगी से सम्भाले हुए जज़्बात कई नाख़्वास्ता सबक़ जिस्म में दफ़न कर देते हैं जो इंसान को हर मुश्किल पड़ाव पर महदूद कर देते हैं। ये नागुज़ीर सबक़ इंसान के इमकानात और तसव्वुर को धुंधला देते हैं। बचपन, ज़्यादातर हालात में, बड़ों की ख़ुद-फ़रेबी का सबसे पहला सामना होता है। और इस मंज़र के सामने भी बच्चों से उम्मीद होती है कि वो फ़रमाँबरदार रहें और बड़ों के इख़्तियार का एहतराम करें। तजस्सुस को बग़ावत समझा जाता है, ख़ास कर जब वो विरासती अक़ीदों या समाजी ढांचों को चुनौती देते हैं।
नावल मज़हब पर भी एक तब्सिरा करता है। जदीद मु-आशरे में अगर दीन का कोई काम है, अगर इस का कोई वाक़ई अनोखा किरदार अब भी बाक़ी है, तो वो यह है कि वो ग़म की कोई तफ़्सीर दे और इस तफ़्सीर के ज़रिए इंसान को ग़म बर्दाश्त करने का हौसला दे — वो अलफ़ाज़ और रिवायत फ़राहम करना जिन के ज़रिए दुख बाँटे जा सकें, और अगर ख़त्म न भी हों तो कम अज़ कम गुज़ारा करना सिखा पाए। लेकिन, नावल ये दिखाता है कि दीन किस क़दर ऐसी तसल्ली देने में नाकाम हो जाता है। मज़हब जिब्रान की रोज़-मर्रा ज़िन्दगी में बस एक अक़ीदा नहीं, बल्कि एक घुली हुई मौजूदगी है — जो उसे तसल्ली भी देता है और तन्बीह भी करता है। नावल ज़्यादातर एहसास और रवैयों को इसी पहलू से समझने की कोशिश करता है। जिब्रान पूछता है: “अगर अल्लाह ने मुर्गियाँ बनाई हैं तो बिल्ली क्यों?” ये सवाल बचपन की सादगी से उभरते हैं — दीनी या इल्मी दायरों के परे — और इसी सादगी में ईमान की बुनियाद हिला देते हैं।
जिब्रान और उस की बहन नुसरत अपनी मुर्गियों और चूज़ों के साथ खेलते हैं, उन्हें बिल्लियों और परिन्दों से बचाने की कोशिश करते हैं। एक दिन उन्हें एक नीली सफ़ेद तितली दिखती है। जिब्रान उसे पकड़ लेता है, लेकिन नुसरत के कहने पर छोड़ देता है। अब उस के पर ज़ख़्मी हो चुके होते हैं, और तितली मुश्किल से उड़ पाती है। मुर्गी फ़ौरन उस पर झपट्टा मारती है और चूज़े भी दावत में शामिल हो जाते हैं। जिब्रान को अपनी उँगलियों पर तितली के नीली सफ़ेद परों की गर्मी बाद तक महसूस होती रहती है। ये मंज़र नावल के एक अहम मौज़ू को सामने लाता है — जब अल्लाह ने ख़ूबसूरत मख़लूक़ात बनाई है तो इस के लिए ख़तरे क्यों पैदा किए? ये सवाल कहानी में हर मोड़ पर आता है। जिब्रान की ज़िन्दगी में शामिल बड़े इस सवाल का क़ना’अत-बख़्श जवाब नहीं दे पाते। बड़ों के जवाब कभी तन्बीह होते हैं, कभी टालने वाले, और कभी दीन का इल्म हासिल करने की नसीहत। तितली का मरना, जिब्रान का सवाल, और बड़ों के जवाब एक ही सिलसिले के पहलू हैं: बेमानी दर्द के मुबहम मानी समझने की बेचैन कोशिशें।
जब वो अपने सवालों को ख़ुद ख़ुदा के पास ले कर जाता है, तो वह भी उसे वही खोखले जवाब देता है जो बड़े पहले ही उसे दे चुके होते हैं। जिब्रान पीठ मोड़ लेता है — न ग़ुस्से में और न बग़ावत में, बल्कि एक मायूसी के साथ — उसे समझ आ जाता है कि ख़ुदा भी एक तंग दायरे में क़ैद हैं। अल्लाह मियाँ का कारख़ाना ईमान के बहरान को किसी मक़ामी वाक़िए के तौर पर पेश नहीं करता। जिब्रान का यक़ीन धीरे धीरे टूटने लगता है, यहाँ तक कि ख़ुदा भी इल्तिजा सुनने के बावजूद बेहिस लगने लगता है।
ज़िन्दगी में हमेशा एक कश्मकश रहती है: जो इंसान चाहता है और जो हक़ीक़त-ए-दुनिया मुमकिन बनाती है। इस नावल में पतंग का इस्ति’आरा बार-बार उभरता है। पतंग की फ़ितरत में है कि वो आज़ाद उड़ती रहे, मगर इस का रुख़ कई चीज़ों के इख़्तियार में होता है: हवा, डोर, और दूसरों की चालें। हर मख़लूक़ — चाहे वह इंसान हो या नीली सफेद तितलियाँ — किसी और की क़िस्मत से उलझ जाती है, और हर कोई अपना किरदार अदा करता है, बग़ैर ये समझे कि इस का असर कितना गहरा हो सकता है। आम से हाथ भी कुछ देर के लिए ख़ुदा-नुमा इख़्तियार पा लेते हैं और किसी और की ज़िन्दगी का रुख़ तय कर देते हैं।
जिब्रान अपनी ज़िन्दगी को दोबारा जोड़ने की और अपने ज़ख़्मों को भरने की कोशिश करता है। ये एक फ़ितरी अमल है, लेकिन जैसे पानी मिट्टी को बहा ले जाता है, ये उस के बस से बाहर है। ये अल्लाह मियाँ का कारख़ाना है: जहाँ इंसान की खुशियाँ, ग़म और आरज़ूएँ सक़ाफ़त, त़बक़ाती निज़ाम और मज़हब की मशीनरी से गुज़रती हैं, और आख़िर में जो उस के पास बचता है वो उस के असल इरादों से बहुत मुख़्तलिफ़ होता है।
आख़िर में, जिब्रान की कहानी न बग़ावत की है और न ही फ़तह की। जिब्रान क़ारी को अन्जाम के दरम्यान छोड़ देता है — एक भारी और उलझी हुई ख़ामोशी के साथ। क़ारी के ज़हन में बेजवाब सवालों की गूंज रह जाती है — कुछ तितली के परों की तरह हल्के, और कुछ कतबे की तरह संगीन और न हिलने वाले।


